Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ

com.maktabatulishaat.FarhangeAsifiya

View detailed information for Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ — ratings, download counts, screenshots, pricing and developer details. See integrated SDKs and related technical data.

Total installs
6.1K(6,122)
Rating
unknown
Released
October 30, 2023
Last updated
January 1, 1970
Category
Books & Reference
Developer
Maktaba Tul Ishaat
Developer details
Name
Maktaba Tul Ishaat
E-mail
maktaba.tul.ishaatofficial@gmail.com
Website
unknown
Country
unknown
Address
unknown
Android SDKs
Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ Header - AppWisp.com

Screenshots

Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ Screenshot 1 - AppWisp.com
Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ Screenshot 2 - AppWisp.com
Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ Screenshot 3 - AppWisp.com
Farhang Asifiya فرہنگ آصفیہ Screenshot 4 - AppWisp.com

Description

فرہنگِ آصفیہ اردو کی پہلی مکمل اور باقاعدہ لغت ہے۔ یہ 1878ء میں ارمغانِ دہلی کے نام سے ایک کی شکل میں قسط وار چھپتا شروع ہوئی تھی۔ بعد میں اس کے مولف مولوی سید احمد دہلوی کو ریاستِ دکن کی سرپرستی حاصل ہو گئی تو انھوں نے نظام حیدرآبادمحبوب علی خان کے لقب آصف کی نسبت سے اس کا نیا نام فرہنگِ آصفیہ قرار دیا۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اردو کی کسی اور لغت کو ایسی شہرت اور قبولِ عام نصیب نہیں ہوا جیسا اس کے حصے میں آیا ہے۔
خصوصیات کا مختصر جائزہ
اردو کی پہلی باقاعدہ، مکمل اور جامع لغت ہے۔
بعض اندراجات کا بیان قاموسی (encyclopedic) انداز میں نہایت تفصیل سے کیا گیا ہے۔
تہذیبی اعتبار سے اردو زبان اور ثقافت کی قیمتی ترین دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔
22 ہزار کے قریب اشعار مختلف الفاظ و تراکیب کے لیے بطور سند کے درج کیے گئے ہیں۔
فحش الفاظ کی کثرت کے سبب تنقید کا ہدف رہی ہے۔
بہت سے الفاظ، تراکیب، امثال اور محاورات وغیرہ ایسے ہیں جو اور لغتوں میں نہیں ملتے۔
زبان و بیان کے اعتبار سے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ یعنی جو کچھ اس میں بیان کر دیا گیا ہے اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔
مولوی سید احمد دہلوی
1844ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آبا و اجداد عرب سے ہندوستان وارد ہوئے تھے۔ سات برس تک ایک انگریز مستشرق اور لغت نویس ڈاکٹر فیلن کے ساتھ کام کیا۔ یہاں سے انھیں خیال پیدا ہوا کہ اردو میں بھی لغت نویسی کے جدید اصولوں کے مطابق ایک لغت مرتب کرنی چاہیے۔ چنانچہ فرہنگِ آصفیہ کی پہلی دو جلدیں 1888ء میں شائع کیں۔ تیسری 1898ء اور آخری یعنی چوتھی جلد 1902ء طبع ہوئی۔